Sunday, August 23, 2009

بلوچستان میں وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا


بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سانحہ مہمند آباد میں شہید ہو نے والے 20پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کے خلاف وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن کا فیصلہ کرلیا 

فرنٹیئر کور بلوچستان کانسٹیبلری اور اینٹی ٹیررسٹ فورس کی بڑی تعداد پولیس کی مدد کے لئے نصیر آباد روانہ کر دی گئی ہے

ڈیرہ مراد جمالی ۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سانحہ مہمند آباد میں شہید ہو نے والے 20پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کے خلاف وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن کا فیصلہ کرل یا ہے فرنٹیئر کور بلوچستان کانسٹیبلری اور اینٹی ٹیررسٹ فورس کی بڑی تعداد پولیس کی مدد کے لئے نصیر آباد روانہ کر دی گئی ہے راکٹ لانچرز بکتر بند گاڑیاں اور بلٹ پروف جیکٹس بھی پہنچانا شروع کر دی گئی ہیں ایک ہفتے کے اندر فیصلہ کن کاروائی شروع کر دی جائے گی اس بات کا اظہار ڈی آئی جی سبی نظیر آباد پولیس غلام شبیر شیخ نے ڈیرہ مراد جمالی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈی پی او نصیر آباد نذیر احمد کر د سینئر پولیس آفیسر علی اکبر مگسی بھی اس موقع پر موجود تھے ڈی آئی جی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور نجی و قومی املاک اور تنصیبات کے تحفظ اور حکومتی رٹ کو بحال رکھنے کے لئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت ترین کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جو لوگ جرائم کے پیشہ عناصر کو سرپرستی یا مدد کرتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں ان کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اغواء کاروں نے یر غمال کئے جانے والے پولیس اہلکاروں کو شہید کر کے اسلامی اقدار اور بلوچی و قبائلی روایات کی سنگین خلاف ورزی کر تے ہوئے انتہائی بزدلانہ فعل کا مظاہرہ کیا ہے ان کو ہر حال میں قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ اگر جرائم پیشہ عناصر ایک گولی چلائیں گے تو پولیس جوابی کاروائی 100 گولی اور ایک راکٹ لانچر کے جواب میں دس راکٹ لانچر جلائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہید ہو نے والے پولیس اہلکاروں کی 60 سال کی عمر کی حد تک ان کے لواحقین کو فی کس 10لاکھ روپے اور زخمیوں کے علاج کے لئے ایک لاکھ روپے اور شہید کوٹہ سے شہید اہلکاروں کے ورثاء کو ایک ایک ملازمت اور شہید اہلکاروں کی 60 سال کی عمر کی حد تک ان کے لواحقین کو تنخواہ فراہم کر نے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کمشنر نصیر آباد ڈویژن ڈاکٹر ثاقب عزیز نے سانحہ چھتر کے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے لئے ڈیرہ مراد جمالی میں رہائشی پلاٹس مفت فراہم کر نے کا اعلان کیا ہے

بلوچستان........ اغیار کی حریصانہ توجہ کا مرکز
کرنل غلام سرور 
معروف دانشور جاویدانور کے بقول ڈالر کے ”بلیک کنگ“ یا ”کالی دیوی“ کا اصل نشانہ بلوچستان ہے۔ صوبہ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کے 48 فیصد پر محیط ہے۔ مگر ملک کی صرف 4 فیصد آبادی یہاں بستی ہے۔ بلوچستان کے معدنی دولت کی فراوانی کا یہ عالم ہے کہ اس کی زمین میں پوشیدہ جملہ خزانوں کے ساتھ ساتھ یورینیم جیسے معدنی خزانے بھی موجود ہیں۔ اس کی زمینوں کے نیچے سیال سونا بھی بہتا ہے اور اس سیال سونے کی صرف ایک ذیلی پیداوار وہ گیس ہے جس پر وطن عزیز کے بیشتر کارخانوں کا انحصار ہے اور جس کی بدولت ہماری بستیوں کے گھروں میں چولہے جل رہے ہیں۔ بلوچستان میں چین کی مدد سے تیار کردہ گوادر پورٹ کو ملکی معیشت میں انتہائی اہمیت حاصل ہے اور اس کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کے پیش نظر پاکستان دشمن طاقتوں پر خوف اور سراسیمگی کی کیفیت طاری ہے اس گوادر پورٹ نے بحیرہ عرب کے تین ساحلوں کو اپنے قریب کردیا ہے۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر عالمی سطح پر امریکی ایماءپر اس طرح کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے اسے عملی اعتبار سے امریکا کی بالادستی میں دے دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کو پاکستان سے کاٹ کر امریکی تحویل میں دینا اس عظیم عالمی سیاسی کھیل کا حصہ ہے جسے گلوبلائزیشن (Globalization) کے ماہر اور کتابوں کے مصنف پیپ سکوبار (Pep Escobar) نے بڑی تفصیل سے امریکا کے اصل عزائم کو طشت ازبام کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ مضمون میں Pipelistan کی سیاست پر روشنی ڈالی ہے اور کہا ہے کہ یہ دراصل ایپی ٹاپی (Ipi Tapi) کے مابین جنگ ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ایران پاکستان اور بھارت کے مابین مجوزہ پائپ لائن منصوبے کو (Peace pipeline) بھی کہا جاتا ہے طے شدہ پروگرام کے تحت پائپ لائن نے بلوچستان سے گزر کر بھارت کا رخ کرنا تھا مگر امریکا اس منصوبے کا شروع سے ہی مخالف رہا ہے۔ اس کی بجائے وہ ٹاپی (Tapi) پر عمل درآمد چاہتا ہے جو ترکمانستان‘ افغانستان‘ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائپ لائن ہوگی۔ یہ پائپ لائن منصوبے کے مطابق امریکا کے زیر اثر ترکمانستان سے نکل کر مغربی افغانستان میں ہرات سے ہوتی ہوئی اور ایک حصہ قندھار سے لیتی ہوئے قندھار سے گزرے گی۔ جانے یہ منصوبہ کب پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ سردست اس کا کوئی علم نہیں۔ اس وقت تو صورتحال کچھ یہ ہے کہ اس پائپ لائن سے تیل اور گیس کی بجائے مسلمانوں کا خون بڑی بھاری مقدار میں بہہ رہا ہے۔ اسی بناءپر واقفان حال اس پائپ لائن کو خون کی پائپ لائن کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔ واشنگٹن کی تازہ ترین سوچ یہ ہے کہ وہ کابل میں متحارب مجاہدین قوتوں کو منظر سے ہٹا کر طالبان کو لانا چاہتا تھا تاکہ وہ ان کی مدد سے پائپلستان کے منصوبے کو عملی جامعہ پہنا سکے۔ لیکن طالبان نے پائپلستان کی مجوزہ کھدائی سے انکار کردیا اور اب ان کی اس گستاخی کا حشر ہم سب کے سامنے ہے۔ امریکا کی یہ مخصوص ادا ہے کہ ایسے افراد جو اس کے چشم ابرو کے اشارے پر رقص کرنے سے اپنی معذوری ظاہر کریں انہیں وہ عبرت کا نشانہ بناکر دم لیتا ہے۔ امریکا اب یہ چاہتا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کاکام پاکستان کے سپرد کردیا جائے اور اس کے تعاون سے پائپلستان کی کھدائی کا اہتمام کرنا چاہتا ہے۔ فنی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پائپلستان کی کھدائی کے عمل میں موجود پاکستان کا نصف حصہ بھی متاثر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر عوام اور افواج کو اس منصوبے پر مامور کردیا گیا تو اس کے خوشگوار نتائج برآمد نہ ہوں گے۔ لہٰذا اس منصوبے کی حتمی منظوری دینے سے پہلے اس کے مختلف پہلوﺅں کا بغور جائزہ لینا بے حد ضروری ہے۔ ہم نے اپنی گفتگو کا آغاز ان عناصر کے حوالے سے کیا تھا جنہوں نے اپنے اپنے مخصوص مقاصد کے پیش نظر بلوچستان پر نظریں گاڑ رکھی ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ ہماری بات خونی پائپ لائن پر جا ٹوٹی جس کی ان دنوں ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اب ہم اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ امریکا‘ یورپی ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک سب بلوچستان کے معاملات میں اتنی غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں؟۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کو جغرافیائی لحاظ سے وسط ایشیاءمیں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد بلوچستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے تجارت اور دیگر اہم معاملات مین اس کی بالادستی کی صلاحیت شناخت کرلی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ پاکستان‘ بلوچستان کے راستے پر ایران‘ عراق‘ چین‘ افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر بڑی طاقت بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔ تجارت‘ ٹیکنالوجی‘ معاشیات اور صنعت کی پیداوار پر اس کی گرفت مضبوط ہوسکتی ہے علاوہ ازیں وسطی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی گیس اور تیل کی دولت کو بھی سمندر کے راستے یورپی ممالک تک باآسانی پہنچا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو بلوچستان کے بارے میں امریکا اور روس کی خصوصی دلچسپی کا جواز دکھائی دینے لگتا ہے۔ امریکا کی بلوچستان سے دلچسپی کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک طویل مدتی پروگرام کے تحت چاہتا ہے کہ بلوچستان کے خطہ سے یورپی تک ایک محفوط اور قابل اعتماد راہ ہموار کرے اور وہ اس راہ کی بدولت ایشیائی ممالک‘ خصوصی طور پر بلوچستان‘ خلیج اور ایران سے تیل اور گیس متعدد امریکی ممالک اور یورپ تک لے جاسکے گا۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان بحر ہند اور وسطی ایشیا کیلئے مختصر ترین راہ فراہم کرسکتا ہے اور امریکا یہ سہولت میسر آنے کے بعد چین پر بھی نگاہ رکھ سکے گا۔ بلوچستان سے خلیجی ممالک کا فاصلہ بھی کوئی زیادہ نہیں۔ امریکی اکابرین کی سوچ کے مطابق جب حالات سازگار ہوں تو امریکا وسطی ایشیا سے گیس اور تیل گوادر وہاں سے پسنی تک لے جاسکے گا جہاں سے امریکا کے لیے اس تیل اور گیس کا متحدہ امریکی ممالک تک لے جانا آسان ہوگا۔ اور آخر میں بلوچستان سے تعلق کے بارے میں امریکی عزائم کی جھلک آپ نے دیکھی۔ امریکا اور دوسرے کئی ممالک بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے در پے ہیں مگر ہم ان طاقتوں کو بروقت آگاہ کیے دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو انہیں جون کی تپتی دوپہر کو تارے دکھائی دینے لگیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔!!

اغیار کی سازشوں کا شکار‘ صوبہ بلوچستان
کرنل غلام سرور 
بلوچستان یوں تو ایک عرصہ سے بحرانوں کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان بحرانوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور حالات تیزی سے غیریقینی صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں اور عوام میں اب بے چینی کا یہ عالم ہے کہ ملک دشمن عناصر علیحدگی کی باتیں بھی کرتے سنائی دینے لگے ہیں۔ ان انتہا پسند عناصر کے بقول بلوچستان کی علیحدگی کا مسئلہ اب نوشتہ دیوار ہے اور اب اسے زیادہ دیر تک روکا نہیں جاسکتا۔ یہ سوچ غیرملکی طاقتوں کے اشارے پر کام کرنے والوں کی جانب سے پھیلائی جارہی ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ مسائل کی سنگینی سے خوفزدہ ہیں مگر ان کی حب الوطنی ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ ان کی حب الوطنی کسی اور پاکستانی شہری سے کچھ کم نہیں۔ یہ عناصر حکومت کی پالیسیوں پر نالاں ضرور ہیں۔ مگر وہ ملک سے علیحدہ ہونے کے بجائے‘ اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ اس تناظر میں حکمت اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ارباب اختیار ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے عوام کے حقوق کا تحفظ کریں اور اُلجھے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں۔ بلوچستان کے عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں اس صوبے میں تعمیر و ترقی کا کام نہ ہونے کے برابر ہوا ہے۔ مقامی سرداروں نے عوام کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا ہے اس کے نتیجے میں یہ محرومی دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت‘ مسائل کی شدت کا احساس رکھتی ہے اور وہ اصلاح کی احوال کی تدابیر بھی اختیار کرنے میں مخلص دکھائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں پیپلزپارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے پندرہ نکاتی سفارشات سینیٹ میں پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے ساتھ ہی بلوچستان رہنماوں کے قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیق کی جائے اور پہاڑوں میں چھپے ہوئے افراد سمیت تمام سیاسی رہنماوں سے مذاکرات کیے جائیں۔ بلوچستان میں رائلٹی کے لیے یکساں فارمولا طے کیا جائے اور صوبے سے تمام فورسز کو واپس بلایا جائے اور این ایف سی ایوارڈ‘ آبادی کی بجائے اراضی اور محصولات کی بنیاد پر دیا جائے۔ ان مطالبات کی روشنی میں یہاں ہم عرض کرتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک عرصہ سے حل طلب چلا آرہا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ درج بالا سفارشات کافی جامع ہیں اور ان سفارشات پر اگر صدق دل سے عمل کیا جائے تو بلوچستان کے عوام کی بے چینی کافی حد تک ختم کی جاسکتی ہے۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے اور انہیں علیحدگی پر آمادہ کرنے میں بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے۔ وزیر داخلہ‘ رحمن ملک نے بڑے واشگاف لفظوں میں بھارت اور روس کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ ان کے بقول یہ دونوں ممالک بلوچستان میں امن قائم نہیں ہونے دیتے اور وہ باغی عناصر کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کررہے ہیں۔ ماضی میں بلوچستان کے حالات بگاڑنے میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہونے کے بارے میں مختلف حکومتیں مختلف بیان دیتی رہی ہیں لیکن رحمن ملک نے سینیٹ میں سرعام یہ بیان دے کر بلوچستان کی اصل صورتحال‘ اہل وطن پر واضح کردی ہے۔ یہ ایک بدیہہ حقیقت ہے کہ بلوچستان پاکستان کا ایک انتہائی اہم صوبہ ہے اور اس کی اسٹرٹیجک لوکیشن (Strategic Location) اور اس کے وسائل پر ملک دشمن طاقتوں کی حریصانہ نگاہیں گڑی ہوئی ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین (حال روس) کی دلی خواہش تھی کہ وہ بلوچستان کی وساطت سے گرم پانی تک رسائی حاصل کرسکے اور اسی خواب کی تعبیر میںاس نے 1978 ءمیں اپنی فوج افغانستان میں اتاری تھی۔ سوویت یونین کی ریشہ دوانیوں اور بائیں بازوسے تعلق رکھنے والے عناصر کی سازشوں کے نتیجے میں ”پختونستان“ اور ”گریٹر بلوچستان“ کے نعرے سنائی دیتے تھے۔ سرحد اور بلوچستان میں قائم صوبائی حکومتیں‘ بائیں بازو کے نظریات سے کافی حد تک ہم آہنگ تھیں۔ اس لیے ”گریٹر بلوچستان“ کے نعروں کو کافی مقبولیت مل گئی تھی۔ بعد میں جب بلوچستان میں نیپ کی حکومت ختم کی گئی تو پھر وہاں فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ بلوچستان قوم پرست جماعتوں نے اس فوجی آپریشن کی بھرپور مزاحمت کی۔ اس مزاحمت میں انہیں افغان حکومت اور بالواسطہ سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ اس دوران نیپ کے بعض سرکردہ رہنما کابل چلے گئے اور وہاں سے بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کی قیادت کی۔ معروف تجزیہ نگار‘ جاوید صدیق لکھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام بالخصوص قوم پرست جماعتوں کا ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کہ اسلام آباد ان کے حقوق غصب کررہا ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آئین کے تحت عوام سے جس خودمختاری کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس ایوب خان‘ بھٹو اور پرویز مشرف کے ادوار کے فوجی آپریشنوں نے بلوچستان کے عوام کو پاکستان سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ انداز نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی برہمی کی اصل وجہ یہی آمرانہ نظام ہی رہا ہے۔ اس نظام نے عوام کی آواز کو ہمیشہ دبانے کی کوشش کی ہے اور اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ بلوچستان کا معاملہ آئے دن بگڑتا جارہا ہے اور آج کے تناظر میں بلوچستان میں جو سازش ہورہی ہے اس کا مرکزی کردار بھارت دکھائی دیتا ہے اور اسے روسی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان سازشوں کو پھلنے پھولنے کا موقع اس بنا پر مل رہا ہے کہ صدیوں سے بلوچ عوام محرومی کا شکار چلے آرہے ہیں اور وہ سرداری نظام کے چنگل میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے عوام کو سرداری نظام سے نجات حاصل کرناہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس تاثر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ بلوچستان میں بھارت اور روس کی مداخلت کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی حالات خراب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اس نے اپنی شاطرانہ چالوں سے سرحد اور بلوچستان سے دونوں صوبوں کو آگ میں دھکیل دیا ہے اور اس تناظر میں اگر بلوچستان میں بغاوت کے جذبات پیدا ہورہے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے ساتھ ساتھ اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے انسانی حقوق کی پامالی کی تمام حدوں کو پامال کردیا ہے۔

بلوچستان ماضی‘ حال اور مستقبل
ڈاکٹرممتاز عمر 
پاکستان کی بقاءاور سا لمیت کے لیے جو مسئلہ بڑی اہمیت رکھتاہے وہ یہ ہے کہ یہ ملک جن عناصر پر مشتمل ہے انہیں کس طرح متحد رکھ کر ایک وحدت کی حیثیت برقرار رکھی جائے کیونکہ یہ عناصر مختلف وجوہات کی بناءپر بڑی شدت کے ساتھ انتشار کا شکار ہیں۔ اگر یہ عناصر مربوط نہ رہ سکے تو استحکام اور ملکی سا لمیت خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے اور سقوط ڈھاکا کے بعد ایسی کوئی بھی صورت اسلامی نظریے اور نظریہ¿ پاکستان پر قائم ہونے والی اس مملکت خداداد کے بارے میں سوال اٹھاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیادی اکائیاں انتشار کا شکار ہیں اور کچھ قوتیں ان کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں۔ آخر یہ خلا کیوں کر پیدا ہوا؟ اور کس طرح وسیع ہورہا ہی؟ اس کی جو وجوہات سامنے آتی ہیں وہ جغرافیائی ‘ لسانی اور معاشی ہیں۔ کیا ہم ایک قوم ہیں یاچار مختلف قومیں ہیں جو مصنوعی طور پر ایک سیاسی وحدت میں منسلک ہوگئی ہیں۔ یعنی سندھی‘ بلوچی‘ پٹھان اور پنجابی جبکہ مہاجر اور سرائیکی بھی منرد تشخص کے خواہاں ہیں۔ اسی طرح معاشی طور پر بھی دو طبقات سامنے آئے ہیں۔ امیر اور غریب‘ زمیندار اور کاشتکار‘ مزدور اور سرمایہ دار‘ بڑی تنخواہیں پانے والے افسر اور چھوٹے اہلکار۔ یہ دو مختلف گروہ ہیں جن کو معاشی بے انصافیوں نے ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ایک بے بس اور لاچار اور دوسرا بالادست اور بااختیار۔ پھر صوبائی خودمختاری اور مالیاتی تقسیم کا معاملہ ہے کہ جس نے فاصلوں کو مزید بڑھایا۔ بلوچستان جو رقبے اور قدرتی وسائل کی کثرت کے باوجود غربت کی پستی میں ہے تو سندھ زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے باوجود مالیاتی معاملات میں کم حصہ ملنے کا شاکی ہے اور صوبہ سرحد پن بجلی کی رائلٹی کا مطالبہ کررہا ہے۔ یہ معاشی ناہمواری بے چینی کو ہوا دیتی ہے اور پھر بلوچستان کے عوام حکومت کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ طاقت کے ذریعے سے ان کو دبا کر ریاست کی سیاسی وحدت اور اس کے امن کو برقرار رکھنا ایک حد تک ممکن ہے مگر یہ چیز دلوں کو جوڑ کر وہ قلبی وحدت تو ہرگز پیدا نہیں کرسکتی جو ریاست کی اندرونی ترقی اور بیرونی خطرات کے مقابلہ میں اس کی متحدہ مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ بلوچستان ایک بار پھر اس مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک چنگاری زبردست دھماکے کا باعث ہوسکتی ہے۔ قدرتی گیس کے وسائل سے مالا مال اس صوبے میں خانہ جنگی نے وہ شدت اختیار کرلی ہے کہ تجارتی اور گھریلو صارفین ہر دو اس سہولت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ یہی نہیں حکومت گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو معاشی خوشحالی کی نوید سناتی ہے تو مقامی آبادی سراپا احتجاج ہے۔ بلوچستان کے قبائلی معاشرے کو سمجھنے کے لیے تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی‘ کیونکہ تقسیم برصغیر کے موقع پر کانگریس اور انگریزوں کی باہمی سازش کے نتیجے میں اس خطے کو ایک آزاد ریاست اور ہندوستان کا حلیف بنانا تھا مگر محمد خان جوگیزئی اور میر جعفر خان جمالی جیسے جہاندیدہ قبائلی سرداروں کی حب الوطنی اور بروقت کارروائی نے اس خواب کو بکھیر کر رکھ دیا جب 3 جون 1947ءکے اعلان آزادی پر اے اے جی نے شاہی جرگے اور کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے ارکان سے رائے چاہی تو معاملے کو ٹالنے کے بجائے اسی وقت فیصلہ کردیا گیا۔ رہی ریاست قلات تو قائداعظم کی فراست نے اسے بھی پاکستان کا حصہ بنالیا‘ مگر افسوس بلوچ عوام اورقبائلی سردار اپنی تمام تر نیک نیتی اور حب الوطنی کے باوجود شک کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ آج ایک بار پھر بلوچستان آگ اور خون کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ نادیدہ قوتیں بلوچ قوم پرستوں کو تختہ مشق بنا کر بلوچ عوام کو مشتعل کررہی ہیں۔ سابقہ دور حکومت میں جب چوہدری شجاعت حسین‘ مشاہد حسین سید اور وسیم سجاد نے مذاکرات کے ذریعے نواب اکبر بگٹی کو منانے کی کوشش کی اور تجاویز حتمی شکل پاچکیں تو مذاکرات ٹال دیے گئے اور پھر طاقت اور قوت کا بے جا استعمال کرکے اس بزرگ سیاستدان کو قتل کردیا گیا۔ بلوچستان سراپا احتجاج بنا رہا‘ پھر 18 فروری 2008 ءکے انتخابات کے بعد امید کا دیا جلا۔ برسراقتدار آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت نے ماضی کے عمل پر معافی چاہتے ہوئے بلوچستان کی ترقی کے وعدے کیے خیرسگالی کے اظہار میں گرفتار بلوچ رہنماوں کو رہا کیا گیا‘ مذاکرات کی میز سجائی گئی۔ حالات کچھ بہتری کی طرف آنا شروع ہوئے اور پھر صدرمملکت کے دورہ¿ کوئٹہ کے دوران بڑے وعدے اور دعوے سامنے آئے۔ ابھی امن کی فاختہ فضاوں میں موجود تھی بلوچستان کے عوام خوش کن مستقبل کے خواب کے طلسم میں گرفتار تھے ابھی صدرمملکت کے دعوے اور وعدے کی گونج محسوس کی جارہی تھی‘ بلوچ اپنے زخموں کے کھرنڈ نظرانداز کرکے خوش گماں تھے‘ ابھی بلوچوں کا متشدد گروہ اقوام متحدہ کی یقین د ہانی پر ان کے مغوی کو رہا کرنے پر آمادہ ہوا تھا‘ ابھی مغوی اپنے گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ اچانک سب کچھ بدل گیا۔ بلوچ انگشت بدنداں رہ گئے دوستی اور اعتبار و اعتماد کے بدلے انہیں ان کے پیاروں کی نعیش دے دی گئیں نعیش بھی ایسی جو مسخ کردی گئی تھیں۔ بلوچستان کوئی مشرقی پاکستان تو نہیں جسے ایک بوجھ سمجھ کر کاٹنے کی سازش کی گئی۔ یہ تو آپ کا سرمایہ ہے صنعتی ترقی کی کلید یہیں ہے۔ یہاں موجود وسائل کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکا۔ گیس‘ تیل‘ کوئلہ‘ تانبا‘ سونا اور فولاد کے وہ ذخائر جو ملکی ترقی اور بلوچستان کی خوشحالی کے ضامن ہیں۔ یہی نہیں گوادر کی بندرگاہ جس کے ثمرات بلوچوں کی جھولی میں آیا ہی چاہتے ہیں کہ اس کی بدولت وسط ایشیا تک کی تجارت کی راہیں کشادہ ہوں گی۔ مگر یہ سب خواب اس وقت بکھر کر رہ جاتے ہیں جب نادیدہ قوتیں اور ملک دشمن طاقتیں یکجا ہوکر بلوچستان میں لگی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار و اقتدار حالات حاضرہ سے چشم پوشی کررہے ہیں یہ وقت زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے۔ بلوچستان کو امداد نہیں ان کا حق دیجئے انہیں مسائل نہیں وسائل میں حصہ دیجئے‘ محض زبانی دعووں اوروعدوں کے بجائے عملی اقدامات کیجئے پراسرار طور پر غائب لوگوں کو منظر عام پر لایئے‘ سیاسی قوتیں مذاکرات کا آغاز کریں‘ ناراض عوام کو منانے کے لیے رعایتیں دیجئے ‘ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے بجائے وسیع القلبی کا ثبوت دیجئے۔ محبت‘ ایثار‘ ہمدردی اور حب الوطنی کو مقدم جانتے ہوئے آج بھی بلوچستان کو بچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ دیکھیں ارباب حل و عقد کیا کرتے ہیں؟ انہیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت محب وطن ہے۔ وہ پاکستان سے نہیں پاکستان کے حکمرانوں سے ناراض ہے۔ ا

بلوچستان ۔ حقائق کے آئینے میں 
کرنل غلام سرور 
برےگےڈےئر محمد اسماعےل صدےقی ، ادبی دنےا کا اےک معروف نام ہے۔اب تک ان کی چودہ کتابےں چھپ کر اہل فکر ونظر سے دادوتحسےن وصول کرچکی ہےں۔دواور کتابےں ، زےرطبع /زےر ترتیب ہےں۔وہ لکھتے ہےں، خوب لکھتے ہےں، اور بے تکان لکھتے ہےں۔عسکری موضوعات کے علاوہ ،انہوں نے اپنے گردوپےش کے ثقافتی اور تہذےبی روےوں کی بھی بھرپور عکاسی کی ہے۔زےر نظرکتاب بنےادی طورپراےک رپورتاژ ہے۔مگر ان کی جادوبےانی کاکمال ےہ ہے کہ انہوں نے اس رپورتاژ کو بھی ادب بنادےا ہے۔اور ساتھ ہی اسماعےل صدےقی کے اندرچھپاہوا،ادےب اور محقق بھی ابھر کر سامنے آگےا ہے۔ کتاب آئےنہ بلوچستان مےں انہوں نے بلوچستان کے باسےوں کو بڑے قرےب سے دےکھا ہے اور صرف دےکھنے پر اکتفانہےں کےا، بلکہ وہ اپنے قاری کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلے ہےں۔ اس طرح انہوں نے اپنے پڑھنے والوں کو بھی بلوچستان کے باشندوں کے دکھ سکھ کو بہت قرےب سے دےکھنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔کتاب کی اےک اور امتےازی خوبی ےہ ہے کہ خوبصورت انداز مےں لکھی گئی ےہ تصنےف، بلوچستان کی ثقافتی، سماجی اور تہذےبی رواےات کی بھی بڑی خوبصورتی سے ترجمانی کرتی ہے، اور ساتھ ہی وہ اس صوبے کی جغرافےائی اور تزوےراتی اہمےت پر بھی سےر حاصل تبصرہ کرتی ہے۔ اس طرح بلوچ عوام کے نفسےاتی اورسماجی تجزےے کے ساتھ ساتھ کتاب مےں ہمےں بلوچستان کی جغرافےائی اور تزوےراتی سے بھی آگہی ملتی ہے۔اورمصنف کا انداز بےان اتنا خوبصورت ہے کہ پڑھنے والے پرسرمستی کی اےسی کےفےت طاری ہوجاتی ہے۔اور بے اختےار پکاراٹھتاہے” ےک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہےے“۔ کتاب کے ابتدائی حصے مےں، مصنف نے بلوچستان کے اقتصادی مسائل کا جائزہ اور ان کا ممکنہ حل تجوےز کےا ہے، اور انتہائی دانشمندی سے ان راہوں کی نشاندہی کی ہے،جو بلوچستان جےسے پسماندہ صوبے کو حقےقی عظمت کی منزل تک لے جاسکتی ہےں۔فاضل مصنف کے بقول ، مری بگتی مےں بسنے والے قبائل کو طوےل عرصہ اندھےروں مےں ٹھوکرےں کھانے کے بعد اب حال ہی مےں ےہ احساس ہوا ہے کہ ووٹ کااصل حقدار کون ہے، کےونکہ اس سے قبل توحق اور باطل کا فےصلہ ان کے سردار کےا کرتے تھے، ان سرداروں نے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کررکھے تھے۔اور انہےں ےہ خوش فہمی تھی کہ ان کا فرماےا ہوا، حرف ، حرف آخر ہے،اور وہ سند کا درجہ رکھتا ہے۔ قبائلی نظام کے خدوخال بےان کرتے ہوئے، برےگےڈےئرصدےقی مزےد لکھتے ہےں کہ ان سرداروں نے اپنے قبےلے کے غرےب اور پسماندہ عوام کو ےہی باورکراےا تھا کہ ان کی بہتری اور بقااسی مےں ہے کہ وہ تعلےم کے نزدےک بھی نہ پھٹکےں، کےونکہ فرنگےوں کالاےا ہوا علم نہ صرف انہےں،بلکہ ان کے تمدن کو بھی برباد کردےگا۔اس طرح ےہ عوام تارےکےوں مےں دھکےل دئےے گئے۔اورتارےکی مےں رہتے ہوئے ، تارےکی کو ہی روشنی سمجھنے لگے ہےں۔ مصنف کے خےال مےں ان دبےزتہوں کو اترنے مےں خاصاوقت لگے گا۔اورعلم کی روشنی پھےلنے مےں عرصہ لگے گا۔کےونکہ ےہ اےک مسلمہ امرہے۔صدےوں کی تارےکی آن کی آن مےں دور نہےں ہوسکتی۔وےسے ےہ امر خوش آئندہ ہے کہ جہاں ، جہاں علمی بالخصوص اسلامی تعلےمات کا چرچا ہے، وہاں سے مسلمان کندن بن کے نکلے ہےں، اوران کے دلوں مےں اسلام کے لئے بے پاےاں شےفتگی دکھائی دےتی ہے، اور انہےں اپنے وطن سے بھی بے پاےاں عقےدت ہے،اوروہ سرعام، بغےر کسی ذہنی تحفظ کے اعلان کرتے ہےں کہ وہ جو کچھ ہےں، پاکستان کے طفےل ہےں، اور اس کی خوشحالی مےں ہی ان کی خوشحالی کا راز مضمر ہے۔ ”دردمنت کش دوانہ ہوا“ کے زےر عنوان ، برےگےڈےئر صدےقی قبائلی سرداروں کے حوالے سے لکھتے ہےں کہ تارےخ گواہ ہے کہ ماضی مےں قبائلی عوام نہ صرف اپنے سرداروں کے حکم کے سامنے سر تسلےم خم کردےتے تھے، بلکہ اپنے سر بھی کٹوادےتے تھے۔ اور سرداروں نے اپنے قبائل کے اس خراج عقےدت کی قےمت، باہروالوں سے وصول کی، اور خوب جی بھرکے وصول کی۔مراعات کی شکل مےں، نوازشات کی شکل مےں ، نقدی کی شکل مےں، مگر جان ہتھےلی پر رکھنے والوں کو کچھ نہےں ملا۔ اب حالات نے پلٹا کھاےا ہے، اورآج ضرورت اس امر کی ہے کہ صدےوں سے محرومی کی شکار اس قوم پر ملک کے ارباب اقتدار اوراےسے احباب کی نظر کرم ہو، جو ےہاں کے لوگوں کی خدمت کرسکےں۔ مگر اس کا کےا علاج کہ چارسو بے حسی کا عالم ہے۔اس حوالے سے لازم ہے کہ اقتصادی ترقی کو ےقےنی بناےا جائے تاکہ انفرادی وسائل کو بروئے کار لاےا جاسکے، اور بلوچستان کے ساحل پر موجود ان علاقوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، جن مےں بندرگاہ بننے کی صلاحےت ہے۔اےسا ہوجائے تو پسماندگی مےں پسے ہوئے بلوچی عوام کی تقدےر مےں انقلابی تبدےلےاں رونما ہوسکتی ہےں۔اور ان وسائل سے حاصل کی ہوئی ترقی ، ترقی معکوس نہےں ہوگی، بلکہ تمناﺅں کی تکمےل اور خوابوں کی تعبےر کی جانب اےک قدم ہوگا۔ گوادر کے حوالے سے برےگےڈےئر صدےقی کا تجزےہ، حقےقت پسندانہ ہے، انہےں اس بات کااطمےنان ہے کہ دےر سے سہی، اب ارباب اقتدار پر گوادر کی بندرگاہ کی اہمےت اجاگر ہوئی ہے۔اور انہوں نے نہ صرف اس کے بارے مےں سوچنا شروع کردےا ہے، بلکہ ان سوچوں کو عملی جامہ پہنانا بھی شروع کردےا ہے۔اورچےن نے اس بندرگاہ کی اسٹرٹےجک اہمےت کااچھی طرح اندازہ لگالےا ہے اور ےہی وجہ ہے کہ اس کی تکمےل کی غرض سے اربوں ڈالر کی Investmentکرنے کو تےارہوگیا ۔گوادر کی ےہ تعمےر وترقی صرف اس کی بندرگاہ کی سہولتوں کو بہتر بنانا نہےں تھی، بلکہ اےک بارمکمل ہوجانے سے اسے بذرےعہ سڑک افغانستان اور کئی وسطی اےشےاءکی رےاستوں تک ملاناتھا، اس کے علاوہ چےن اور شمالی ہندوستان کو اس سے منسلک کرنا تھا۔ اس مےں شک نہےں کہ گوادر کی کامےابی کاانحصار بڑی حد تک بلوچستان مےں استحکام اور بالخصوص پاکستان کی سالمےت پر منحصر ہے۔ المختصر ،مصنف نے انتہائی اختصار سے کام لے کر حقائق کی بوقلمونی کونوک قلم سے آشنا کردےا ہے، اور بلوچستان کی متنوع زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو خوبصورتی سے اجاگر کےا ہے۔اس خوبصورت کاوش پر ہم فاضل مصنف کو ہدئےہ تبرےک پےش کرتے ہےں۔ (آئےنہ بلوچستان ، دوست پبلکےشنز نے اسلام آباد، لاہور، کراچی سے شائع کی ہے۔231صفحات کی کتاب کی قےمت260/=روپے ہے)۔

بلوچستان سے جنوبی پنجاب تک
سید منور حسن 
بلوچستان اس وقت بارود پر بیٹھا ہواہے، مختلف علاقوں سے پاکستان کا پرچم اتار دیا گیاہے، قومی ترانہ پڑھنے پر پابندی ہے، آباد کاروں اور دوسرے صوبوں سے آنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے۔یہ سب باتیں ایک سو ایک فیصد بھی درست ہوسکتی ہیں لیکن مسئلہ زیربحث یہاں سے شروع نہیں ہوتا۔بگاڑ کا آغاز فوجی آپریشن سے ہوا۔بھٹو،ضیاءاور مشرف دور میں ہونے والے تین آپریشن تو بہت نمایاں ہیںاور ان کے ذریعے بلوچوں کو بہت زخم لگے ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ پاکستان کے اندر رہ کر اپنا حق اور صوبائی خودمختاری مانگتے ہیں تو یہ قابل تحسین بات ہے۔ اتنے آپریشنز کے بعدبھی اگر وہ پاکستان میں شامل ہیں تو ان کو داد دینی چاہیے بجائے اس کے کہ ان پرطرح طرح کے الزامات لگائے جائیں اور طعنے دیے جائیں کہ تمھارارویہ حب الوطنی کے منافی ہے۔ یہ مسئلہ صرف قوم پرستی کا نہیں ہے، لوگ اس طرح اظہار خیال سے معاملات کو کنفیوژ کرتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ بلوچوں کے ساتھ ظلم ہواہے اورانھیں آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ بلوچوں کوان کے حقوق دینے اور انھیں برابر کا شہری تسلیم کرنے کے بجائے اسلام آباد کی ہرحکومت اوراسٹیبلشمنٹ نے کمیٹیاں دے کراور امدادی پیکیجز کااعلان کرکے انھیں بہلا نے کی کوشش کی۔چوہدری شجاعت حسین کمیٹی، سید مشاہد حسین کمیٹی،ڈاکٹر بابراعوان کمیٹی۔”کمیٹیاں دے کے بہلایاگیاہوں‘ ‘۔ یاپھر مختلف امدادی پیکیجز کا اعلان ہوا،پرویز مشرف کے بعد آصف زرداری صاحب نے بھی دو مرتبہ اربوں روپے کے پیکیج کا وعدہ کیا، معافیاں مانگیں مگربلوچوں کو ملتا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس طرح تو زیادہ دیرتک بچے بھی نہیں بہلتے۔ بلوچ دانا و بینا ہیں، اپنے تجربے سے بھی انھوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ دودھ کے جلے ہیں چھاچھ کو پھونک پھونک کر پی رہے ہیں۔وہ نادان تو نہیں ہیں کہ ہمیشہ کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں سے بہل جائیں۔ وزیراعظم نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر بلوچستان پر اے پی سی کا اعلان کیا تھا مگر اب انھوں نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ہم مسلسل یہ بات کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے پر اے پی سی ضرور ہونی چاہیے مگر پورے ہوم ورک کے ساتھ ہونی چاہیے۔ روٹھے ہوئے بلوچوں کومنایاجائے کیونکہ ان کی شرکت کے بغیر ہونے والی اے پی سی بے معنی ہوگی۔ بلوچوں کی کچھ شرائط ایسی ہیں جن کو اے پی سی سے پہلے مان لینا چاہیے تاکہ ان کو یقین ہو کہ ہم سے دھوکہ نہیں کیا جارہاہے اور ہمارے لیے کوئی جال نہیں بچھایا جارہاہے۔ صوبائی خودمختاری اور وسائل پربلوچوں کا حق تسلیم کرنے جیسے مطالبات پراے پی سی سے پہلے ہی عملدرآمد کردینا چاہیے۔ اسی طرح اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر پرویز مشرف کے خلاف درج کی جائے اور اسے کٹہرے میں لایا جائے۔پرویز مشرف نے اسلام آباد میں کھڑے ہوکراکبر بگٹی کو دھکی کے انداز میں کہا تھا کہ” ایک چیزآکر تم کو ہٹ کرے گی اور تمھیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔“ واقعی ایک چیز نے آکر اسے ہٹ کیا اور اسے پتہ بھی نہیں چلا۔ پھر اقوام متحدہ کے امریکی اہلکار جان سولیکی کی رہائی میں اہم کردار ادا کرنے والے تین بلوچ رہنماو¿ں جنھیں شہدائے تربت کا نام دیا گیاہے، کے قتل کی ایف آئی آرمقتولین کے ورثا کی مرضی کے مطابق درج کی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے ایک اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ بلوچوں نے پورے ہوم ورک کے ساتھ سینکڑوں بلوچوں کی فہرست جاری کی ہے جو لاپتہ ہیں۔ ان میں ایک سو بیس کے قریب خواتین بھی ہیں۔ زمین ان کو نگل گئی ہے، آسمان اچک کر لے گیا ہے۔ یہ کسی کے باپ ہیں،کسی کے بیٹے ہیں،کسی کے بھائی ہیں، کسی کے شوہر ہیں، کسی کی مائیں ہیں، کسی کی بیٹیاں ہیں، کسی کی بہنیں ہیں۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ یہ مرد وخواتین کہاں ہیںاور کس حال میںہیں۔اور ہمدردانہ رویہ اپناتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کرنے چاہیےں۔ یہ بارہ سو تو” اسلامی دہشت گرد“ ہونے کے الزام سے بھی پاک ہیں۔کسی کے ساتھ بھی اس طرح کا ناروا سلوک کیاجائے،زیادتی اور ظلم پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے تو طبیعت اور مزاج ایک انتقامی ذہن میںڈھل جاتاہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں بھی بلوچستان جیسامنظر نامہ تخلیق کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اگروہاں بھی آپریشن شروع ہوجاتا ہے تو ایک خوفناک منظر نامہ وجودمیں آئے گااورپورے ملک میں ایک انتشار اور انارکی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ ہماری اطلاع کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں بلوچستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں اور دروں پر ملٹری اور پیراملٹری فورسز نے قدم جما لیے ہیں، مورچے بنا لیے ہیں۔ پلوں پر اپنے ڈیرے بسالیے ہیں۔سڑکوں پرپیراملٹری فورسز کا گشت جاری ہے، دریائی پتنوں پر کشتیوں کے ذریعے آنے جانے والوں کی تلاشی لی جاتی ہے اور ویسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جیسے سوات میں ابتدائی دنوں میں تھے۔ ڈی جی خان کے مدرسے میں سرچ آپریشن، بارود کا ٹرک پکڑنے اور پولیس مقابلے کی من گھڑت خبر چلوائی گئی۔واقعہ شادن لونڈمیں نہیں بلکہ اس کے قریب سیہانی بستی میں ہواجو ڈاکو¿وں کی بستی کے نام سے مشہور ہے،اور وہاں سرے سے مدرسہ ہی نہیں ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے اڈے کو ایک سازش کے تحت مدرسے کا رنگ دیاگیاجبکہ ملزمان کے خلاف تونسہ اور دیگر تھانوں میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ اور پولیس مقابلوں کے کئی مقدمات درج تھے۔ میاں چنوں میں ہونے والے دھماکے کی جگہ کو بھی مدرسے کا نام دیا گیا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ ابھی تک خاموش ہیں کہ ڈیرہ غازی خان اور میاں چنوں میں جو ڈرامہ رچایا گیا،اور امریکی جن پنجابی طالبان کی دہائی دے رہے ہیں، ان کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کررہے ہیں، اور رحمان ملک جس کی گواہی دے رہے ہیں، اس پر ان کا کیا مو¿قف ہے۔ کیونکہ وہ اس سوات آپریشن کے تو بڑے حامی ہیںاور اس کوناگزیر سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں اڑتیس لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ پنجاب کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں جس آپریشن کی تیاریاں ہورہی ہیںوہ اس کی حمایت کریں گے یا اس بارے میں کوئی اور دلیل ہے جو وہ لوگوں کو فراہم کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کو آنکھیں کھولنی چاہییںاوران حالات کو ازخو دیکھنا چاہیے، ان کی باریکیوں کا سمجھنااوران کا توڑ کرنا چاہیے۔ انھیںپاکستان میں امریکی ایجنڈے کو لے کر چلنے اور اس کی ترجیحات کی ترجمانی کرنے سے باز آجانا چاہیے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ وطن عزیز میںانارکی پھیلے، فوج اور عوام باہم دست و گریبان ہوں،فرقے اور مسلک ایک دوسرے سے لڑنا شروع کردیں، کراچی اور اس کے گردونواح میں لسانی وحدتیں اورا کائیاں بکھر جائیں اور لوگ ایک دوسرے کے مقابلے پر ہوں۔اور اس انارکی کے نتیجے میں اسے کہوٹہ تک پہنچنے اور ہمارے ایٹمی اثاثوں کو اقوام متحدہ کی تحویل میں دینے کے لیے پروپیگنڈے میں سہولت حاصل ہوجائے۔ اگر ہمارے حکمران یہ بات نہیں سمجھتے ہیںتو عوام کو یہ بات لازماً سمجھنی چاہیے اورپاکستان کو امریکی چراگاہ بننے سے بچانے کے لیے ”گوامریکہ گو“تحریک کا بھرپورساتھ دیناچاہیے۔
بیرونی اور اندرونی قوتوں کا تختہ مشق بلوچستان
ثمرہ جمیل مرزا 
ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت جس کی بازگشت عملی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے‘ اس امر کی گواہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ناقابلِ بیان نقصانات خود اپنے اندر سے مسلمانوں ہی کے ہاتھوں اپنی یا ان کی بداعمالیوں کے ذریعے پہنچے ہیں۔ آج وطنِ عزیز میں وہی اندر کی جنگ برپا ہے جو کھلے دشمن کے ساتھ ہونے والی جنگ سے بدرجہا خطرناک، دشوار اور تباہ کن ہے۔ اس سے قبل ایسی ایک جنگ 1971ءمیں ملک کو دولخت کرچکی ہے جو ہمارے سفاک دشمن کے زعمِ باطل کے مطابق مطالبہ¿ پاکستان کے بنیادی دوقومی نظریے کو خلیجِ بنگال میں ڈبو دینے کے مترادف تھی۔ یہ تو قادرِ مطلق کو منظور نہیں تھا‘ کہ جن محترم ہستیوں کو یہ نظریہ فیضانِ نظر کے طور پر عطا کیا گیا ان کی توہین ناقابلِ قبول ٹھیری اور اس جنگ کے تینوں آرکیٹکٹ ذلت و نامرادی کی حسرت ناک موت سے کیفر کردار کو پہنچے۔ البتہ یہ جنگ بہرحال اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور برادرانِ قوم جنہوں نے 1947ءمیں اسی دو قومی نظریے کے حق میں اپنا تمام وزن ڈالا تھا اور جن کو سینے سے لگانے کے لیے ہمارے جسم میسر نہ آسکے وہ دشمن کے گلے لگ کر مشترکہ وطن کا گلا کاٹنے پر مجبور ہوگئے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مشرقی پاکستان کی اس تمام صورت حال کے عوامل کی عدالتی تحقیقات کے لیے جسٹس حمود الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کی رپورٹ کا اُس وقت کے حکمرانوں جناب ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر مرد ِحق ضیاءالحق اور برسر اقتدار خصوصی رفقاءنے تفصیلی مطالعہ کیا اور اسے بلا وجہ اپنے اختیارات میں دفن کردیا۔ کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرسکے۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ رپورٹ اپنی تمام تر پابندیوں اور پیش بندیوں کے باوصف ہمارے دشمن کے ہاتھ جالگی اور ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوگئی۔ گویا اپنے مسخ شدہ چہرے کو دیکھنے کے لیے آئینہ بھی ہمارے ازلی دشمن نے فراہم کیا۔ رپورٹ کے مطابق ثابت ہوا کہ ہم نے یہ جنگ اپنے بیرونی دشمنوں لیکن اندرونی دوستوں کے بھرپور تعاون سے ہاری۔ لیکن اس رپورٹ کو ہماری عسکری اور سیاسی قیادتوں نے اپنے اپنے جرائم کی پردہ پوشی، نااہلی اور بدعنوانیوں کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کے لیے برسر عام نہ ہونے دیا۔ ایک ایسی ہی تشویشناک صورت حال ملک کی شمال مغربی سرحدوں کے اندر اپنی پوری تباہ کاریوں کے ساتھ برپا ہی، جہاں وسیع علاقے میں عسکریت پسند قرار دیے جانے والوں کے خلاف کارروائی کے نام سے اہل وطن کے خلاف گرم جنگ جاری ہی، جبکہ بلوچستان میں ایک دوسری طرز کا بدرجہا تشویش خیز اور نتائج کے اعتبار سے خوفناک کھیل پڑوسی ملک بھارت اور افغانستان کے عملی تعاون اور امریکا کی منصوبہ بندی سے جاری ہے‘ جس کی بساط کے مہرے پست تر کردار کے حامل اور شخصی وقار سے محروم فردِ واحد کا ترتیب دیا ہوا مقتدرہ گروہ ہے جس میں ایسی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی قومی ترجیح ہے۔ وہ بلوچستان کو ایسے قیامت خیز حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد میں اپنی حکمرانی کی نمائش، خوش پوشی اور نئے بیرونی دوروں کی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ تصویر کا ایک رخ تو وہ ہے جس کی ابتدا سوئی گیس فیلڈ کالونی میں سرکاری ہسپتال کی ایک خاتون ڈاکٹر کی آرمی کیپٹن کے ہاتھوں مبینہ بے حرمتی پر جاری احتجاج سے ہوئی جس کے اثرات ملحقہ ڈیرہ بگٹی تک دراز ہوگئے۔ اس شرمناک واردات کو مقامی بگٹی آبادی نے اپنی توہین تصور کیا۔ یوں احتجاج میں شدت اور وسعت کے علاوہ گیس تنصیبات کو کچھ نقصان بھی پہنچایا گیا اور حالات بتدریج بگڑتے چلے گئے‘ یہاں تک کہ 16مارچ 2005ءکو ڈیرہ بگٹی میں بمباری کرکے تمندار نواب محمد اکبر بگٹی جیسے بزرگ سیاستدان اور نفیس انسان کو کوہلو کے پہاڑی سلسلے کی غلیظ غاروں میں پناہ لینے پر مجبور کردیا گیا۔ یہیں پر 26اگست 2006ءکو پاکستان کے سابق وزیر داخلہ، بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیراعلیٰ نواب محمد اکبر بگٹی کو میزائلوں کے حملے میں اپنے متعدد جانثاروں کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ نواب صاحب محترم کی شہادت سے پیدا ہونے والے جوشِ انتقام اور بدگمانیوں نے پورے صوبہ بلوچستان میں آج تک ایک طوفان برپا کررکھا ہے‘ لیکن یہ امر شرمناک حد تک قابلِ افسوس ہے کہ اسلام آباد کا حکمران طبقہ اس طوفان کی شدت کو کسی معقول پیمانے سے ناپنے سے قاصر ہی، بلکہ کسی قومی تعلق کی اساس پر مو¿ثر احساسِ ذمہ داری تک مفقود ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کسی بھی تعلقِ خاطر کی بنیاد اعتبار اور ایفائے عہد پر ہوتی ہے۔ شکست ِعہد اور اعتبار کے بعد تعلق قائم رکھنا نہایت دشوار ہوتا ہے اور اسی شکست ِتعلق سے برآمد ہونے والی بداعتمادی خیر کی منازل تک پہنچانے وال شاہراہوں کو ناہموار، پیچیدہ اور مسدود کرڈالتی ہے۔ ایسے ہی حالات کا منطقی نتیجہ ہے کہ بلوچستان کی نئی نسل کا ملک سے جذباتی، قومی اور سماجی تعلق آہستہ آہستہ کمزور تر ہورہا ہے۔ اس زوال پذیر اعتماد اور تعلق کو بندوقوں، ٹینکوں اور فوجی چھاﺅنیوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ صرف عدل اور انصاف کی قوت سے قائم رکھا جاسکتا ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ رہے ہیں کہ بلوچستان میں پیدا ہونے والے غیر بلوچ دادوں اور باپوں کی اولادوں کو خونریز انتقام کا نشانہ بنا کر اور ان گنت برسوں سے بسے ہوئے خاندانوں کو صوبے سے بے دخل کرنے کا عمل جاری ہے۔ خصوصی طور سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے خاندان خطرناک حد تک غیر محفوظ ہیں اور یہ ایسی صورت حال ہے جس کا بھرپور فائدہ بھارت اور امریکا اٹھا رہے ہیں‘ اور ان قوتوں کو فکری اور سیاسی مدد کے ذریعے مزید مضبوط کرنے میں اپنا گھناﺅنا کردار ادا کررہے ہیں جو ہمہ اقسام شدت پسند اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بھارت کے اس شرمناک کردار کے واضح ثبوت، واقعاتی شہادتوں کے ساتھ شرم الشیخ کی غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نے پیش کیے تھے۔ یہ وہی بھارت ہے جس کی محبت ہمارے صدر محترم کے اعلانات میں پھوٹتی رہتی ہے‘ جو واشنگٹن کی لَے پر نہایت ڈھٹائی سے کیے جاتے رہے اور سفاک بھارت کو اپنے لیے کوئی خطرہ قرار نہ دینے کی طفلانہ بیان بازیاں کرتے رہے ہیں۔ صدر آصف زرداری نے چند ماہ پیشتر بلوچستان کے دورہ کے موقع پر بلوچستان سے گزشتہ برسوں میں روا رکھی گئی زیادتیوں پر معافی تو طلب کرلی تھی اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کرنے کے اعلانات بھی کیے‘ لیکن نا انصافیوں کا مستقل ازالہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت یا پیش رفت سامنے نہیں آرہی۔ بلوچوں سے فوری انصاف کی ایک عملی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے مطالبے کے مطابق جنرل پرویز مشرف اور اس کے خلاف ِقانون احکامات کی بجا آوری میں ملوث افراد پر بلالحاظ ِعہدہ اور ادارہ جاتی تعلق کے نواب محمد اکبر بگٹی کے بہیمانہ قتل کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جائے اور ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہاں یہ سوال غالباً ضرور اٹھے گا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جنہوں نے پرویز مشرف سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا اور صدر آصف زرداری جنہوں نے پرویز مشرف کے نامزد غیر آئینی چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے حلف لیا وہ آمر پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کا حوصلہ اور جرا¿ت کریں گی؟ (جاری ہے)